ممبئی، 27؍ جنوری (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )بی ایم سی انتخابات میں بی جے پی-شیوسینااتحادٹوٹنے کے بعداین سی پی لیڈرشردپوارنے بی جے پی کو حمایت دینے کے اشارے دئیے ہیں۔واضح ہوکہ این سی پی سیکولرشبیہ کی پارٹی سمجھی جاتی ہے ۔یوپی الیکشن کے تناظرمیں اس کے جنرل سکریٹری طارق انورمسلسل سیکولرزم کامالاجپ رہے ہیں۔لیکن شرد پوارنے ریاست کے الیکشن کے بعدشیوسیناکے ساتھ بھی جانے کااشارہ دیاتھا۔اب انہوں نے کہا کہ اگر بی ایم سی انتخابات کے بعد ریاست میں بی جے پی-شیوسینا کی حکومت پرخطرہ منڈلاتا ہے تو دونوں میں تلخی کی وجہ سے اور بی جے پی حکومت کو بچانے کے لیے اگر مدد مانگی جاتی ہے تو وہ اس کے بارے میں سوچیں گے۔پوار نے کہا کہ بی جے پی-شیوسینا اتنے سالوں ساتھ رہیں ، اتحاد ٹوٹنے پرتکلیف ہو رہی ہے۔غورطلب ہے کہ بی جے پی سے کافی ناراض نظر آئے شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے کل کہا تھا کہ مہاراشٹر میں اب انتخابات ساتھ نہیں لڑیں گے۔پارٹی نے اتحاد میں رہ کر 25سال برباد کر دیا ہے ،حالانکہ ادھو نے ریاست اور مرکز میں موجودہ اتحاد پر ابھی کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ آئندہ بی ایم سی انتخابات کے لیے شیوسینا نے بی جے پی کے ساتھ جاری 25سال پرانا اتحاد توڑ دیا ہے۔شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے ممبئی میں عہدیداروں کے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے دو ٹوک لہجہ میں کہا تھا کہ پارٹی نے اتحاد میں رہ کر 25سال برباد کردیا ، اب وہ مہاراشٹر میں اکیلے آگے بڑھے گی۔طے وقت کے مطابق، شیو سینا نے ممبئی کے این سی ای گراؤنڈ میں منعقد اجتماع میں بی جے پی پر آگ اگلنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا۔ادھو نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ میں اعلان کر رہا ہوں، آج کے بعد مستقبل میں شیوسینا اکیلی مہاراشٹر میں بھگوالہرائے گی ، اب کے بعد میں اتحاد کے لیے کسی کے دروازے پر کٹورا لے کر نہیں جاؤں گا، جو کچھ ہوگا وہ میرے شیوسینکوں کا، شیوسینا سربراہ کا، ہماراہو گا،کسی کی بھیک نہیں۔ اس کے آغاز کے طور پر میونسپل کارپوریشن اور ضلع پریشد کے آئندہ انتخابات میں کہیں بھی ہم اتحاد نہیں کریں گے۔میرے شوسینک شیوسینا کے ساتھ غداری نہیں کریں گے ،اب لڑائی شروع ہو چکی ہے۔رشتہ ختم کرنے کی وجہ سیٹوں کی تقسیم کو بتایا جارہا ہے ۔بی جے پی کا اس انتخاب میں 50-50فارمولہ کے تحت آدھی نشستیں مانگنا شیوسینا کو ناگوار گزرا ہے۔اس کو ادھو ٹھاکرے نے بغیر حیثیت کی تجویز قرار دیتے ہوئے شیوسینا کی توہین قراردیا۔غور طلب ہے کہ ایشیاء کی سب سے امیر میونسپل کارپوریشن کی لڑائی میں شیوسینا نے بی جے پی کو گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں 5سیٹیں کم دینے کا آفر دیا تھا۔بی جے پی نے گزشتہ انتخابات میں 65سیٹوں پر الیکشن لڑی تھی۔ایسے میں بی جے پی نے بھی اس تجویز کو مسترد کر اکیلے انتخابات میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے شیوسینا کی ریلی کے فوراََبعد ٹوئٹ کر اپنے رائے کا اظہار کیا ۔انہوں نے لکھا، اقتدار ممکن ہے،ذریعہ نہیں،تبدیلی توہوگی،جوآئے گا اس کے ساتھ جو نہیں آئے گا اس کے بغیر۔